**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ بار کونسل نے این سی سی آئی اے کی جانب سے سینئر قانون دان اور وکیل **ایاز لطیف پلیجو** کو جاری کیے گئے نوٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
سندھ بار کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایاز لطیف پلیجو کو سندھ اور عوامی اہمیت کے معاملات پر اظہارِ رائے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے۔ کونسل کے مطابق آزادیٔ اظہارِ رائے آئینِ پاکستان کے تحت ایک بنیادی حق ہے اور جمہوری نظام کا اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہریوں اور وکلاء کو اپنے حقوق اور ان سے متعلق عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، اور اس حق کا استعمال کسی صورت جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سندھ بار کونسل نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ ایاز لطیف پلیجو کو جاری کیا گیا نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ وکلاء برادری کے کسی بھی رکن کے خلاف محض اظہارِ رائے کی بنیاد پر جبری کارروائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
بیان میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ ایک سینئر وکیل کو اظہارِ رائے پر نوٹس جاری کرنا نہ صرف وکلاء برادری بلکہ جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی باعثِ تشویش ہے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو
اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور جمہوری معاشروں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں ضروری ہے کہ ریاستی ادارے اور متعلقہ فریق آئینی حدود، قانونی تقاضوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے شفاف اور منصفانہ طریقۂ کار اختیار کریں، تاکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** عوامی مسائل، آئینی حقوق، عدالتی امور، سماجی انصاف اور انسانی حقوق سے متعلق آزاد، متوازن اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے کام کر رہا ہے۔
آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
**ڈسکلیمر:** یہ خبر سندھ بار کونسل کے جاری کردہ بیان اور مؤقف پر مبنی ہے۔ این سی سی آئی اے یا دیگر متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


