19

ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود احمد کی کتاب ’’سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک‘‘ کی تقریبِ رونمائی

**کراچی (HRNW):** اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) ہیڈکوارٹرز میں ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن **ڈاکٹر مقصود احمد** کی کتاب **’’سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک (جلد اول)‘‘** کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں آئی جی سندھ **جاوید عالم اوڈھو** نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، سابق انسپکٹرز جنرل آف پولیس، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینئر افسران، مختلف ممالک کے قونصل جنرلز، ماہرینِ تعلیم، پروفیسرز، پولیس افسران اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

مقررین نے کتاب کو **جدید پولیسنگ اور سیکیورٹی تربیت کے لیے اہم سنگِ میل** قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان بھر کے پولیس تربیتی اداروں اور سیکیورٹی اکیڈمیوں کے لیے ایک مؤثر حوالہ جاتی دستاویز ثابت ہوسکتی ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ جدید پولیسنگ وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ کتاب سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ سرویلنس سسٹمز، عالمی معیار کے تربیتی اداروں اور ماہر انسٹرکٹرز کی ضرورت پر زور دیا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے پولیس فورس میں **مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تدریسی نظام** متعارف کرانے کو قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔ ان کے مطابق تربیت میں AI کا استعمال علم کی مؤثر منتقلی اور پولیس کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا کہ کتاب ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کی اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق ہینڈ بک کو دہشت گردی، سائبر خطرات، ہنگامی حالات اور جدید سیکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، کیونکہ روایتی پولیس تربیت موجودہ پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں رہی۔

ہینڈ بک میں **ٹیکٹیکل ریڈیو کمیونیکیشن، موٹر ڈرائیونگ، ویپن سسٹمز، آئی ای ڈی سے نمٹنے، نان لیتھل ویپنز، سیکیورٹی کے مختلف حصار، اہم تنصیبات کا تحفظ، ایمرجنسی رسپانس، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، موٹرکیڈ آپریشنز، وی وی آئی پی سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل انتہاپسندی اور مستقبل کی سیکیورٹی ٹیکنالوجیز** سمیت متعدد موضوعات شامل ہیں۔

کتاب میں عملی فیلڈ تجربات، SOPs، مقامی کیس اسٹڈیز اور بین الاقوامی سیکیورٹی اصولوں کو پاکستان کے آپریشنل ماحول کے مطابق شامل کیا گیا ہے۔

تقریب کے دوران کمانڈنٹ ایس ایس یو **عامر خان نیازی** نے SSU E-Learning Academy کا تعارف اور عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ AI سے منسلک یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پولیس افسران اور اہلکاروں کو تربیتی مواد، آپریشنل رہنمائی اور پیشہ ورانہ سوالات کے جوابات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ہینڈ بک کو پاکستان بھر کے پولیس تربیتی اداروں اور خصوصی سیکیورٹی اکیڈمیوں میں ادارہ جاتی جائزے، پیشہ ورانہ رہنمائی اور تدریسی استعمال کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

### انسانی حقوق اور جدید پولیسنگ کا پہلو

جدید پولیس تربیت میں انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، متناسب طاقت کے استعمال، شہری تحفظ اور پیشہ ورانہ احتساب کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جدید تربیتی نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب سیکیورٹی صلاحیتوں کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانونی ضمانتوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شہری تحفظ اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے کام کر رہا ہے۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

**ڈسکلیمر:** یہ خبر سندھ پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کتاب اور تربیتی پروگرام سے متعلق دعوے متعلقہ ادارے کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں