14

ملکی معیشت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے، فوری سیاسی استحکام ناگزیر ہے: ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو): انصاف لائرز فورم (پی ٹی آئی) کراچی ڈویزن کے سینیئر رہنما ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت دن بہ دن زوال کا شکار ہو رہی ہے اور موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ فوری طور پر سیاسی استحکام پیدا کیا جائے تاکہ معیشت کو سنبھالا جا سکے اور عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی سے نجات مل سکے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، صنعتوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل جمود نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے نئے ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی کے ذریعے معیشت کا بوجھ عوام پر منتقل کر رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں ملکی معیشت چلانے کی کوشش نہ صرف ناکام پالیسی ہے بلکہ اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور بجلی سمیت ہر شعبے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کا بلاامتیاز اور فوری احتساب کیا جائے۔ کرپشن کے خاتمے، شفاف احتساب اور قانون کی یکساں عملداری کے بغیر نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آئین و قانون کی بالادستی، حقیقی جمہوریت اور شفاف حکمرانی چاہتے ہیں۔ ملک میں آئینی نظام کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی سیاسی اور معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی، عوام کے چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی اور انصاف کی حکمرانی ہی پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کے ووٹ کا احترام، آئین کی بالادستی اور قانون کی مساوی حکمرانی یقینی نہیں بنائی جاتی، اس وقت تک نہ سیاسی استحکام ممکن ہے اور نہ ہی پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی انتقام، جبر اور انتشاری سیاست کو ترک کرتے ہوئے قومی مفاہمت، آئینی بالادستی، آزادانہ جمہوری عمل اور مؤثر معاشی اصلاحات کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں