کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کمشنر کراچی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس کراچی ویسٹ میں فورتھ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں، پراپرٹی ٹیکس، سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC)، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، مینٹیننس اینڈ ریپیئر، روڈ کٹنگ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) اور دیگر ترقیاتی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی، جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے مؤثر حل پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کراچی ویسٹ ذوالفقار علی میمن، اسسٹنٹ کمشنر اورنگی، اسسٹنٹ کمشنر منگھوپیر، اسسٹنٹ کمشنر مومن آباد، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن منگھوپیر کے چیئرمین حاجی نواز علی بروہی، میونسپل کمشنر آغا خالیق، بی اینڈ آر ڈیپارٹمنٹ سے آفاق عالم، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن حافظ محمد شعیب، انچارج روڈ کٹنگ عبدالغفار جتوئی، ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی ٹیکس اور متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیئرمین حاجی نواز علی بروہی نے منگھوپیر ٹاؤن میں جاری ترقیاتی منصوبوں، سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کی اسکیموں، بلدیاتی خدمات، بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و بحالی، نکاسیٔ آب، صفائی ستھرائی، پارکوں اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے جاری اسکیموں کی پیش رفت، مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے کیے گئے اقدامات اور مستقبل کی ترقیاتی حکمتِ عملی سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔
میونسپل کمشنر آغا خالیق نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکنیکی پیش رفت، انتظامی امور اور جاری ترقیاتی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی ٹیکس نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولیوں، مقررہ اہداف، ریونیو میں اضافے اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اجلاس کو بریف کیا۔
اس موقع پر چیئرمین ٹاؤن میونسپل کارپوریشن منگھوپیر حاجی نواز علی بروہی نے کہا کہ “منگھوپیر ٹاؤن کی تعمیر و ترقی، عوام کو معیاری بلدیاتی سہولیات کی فراہمی اور شہری مسائل کا پائیدار حل ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم صرف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز نہیں بلکہ ان کی بروقت، شفاف اور اعلیٰ معیار کے مطابق تکمیل کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ہماری پوری ٹیم عوامی خدمت کے جذبے کے تحت شب و روز محنت کر رہی ہے تاکہ ہر یونین کونسل میں ترقیاتی کاموں کے ثمرات بلاامتیاز عوام تک پہنچ سکیں۔”


