حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان اورنائب صدر شان سہگل نے یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے اشتراک سے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان اکنامک سمٹ 2026 میں شرکت کرتے ہوئے حیدرآباد کی تاجر و صنعتکار برادری کی نمائندگی کی اور ملکی معیشت، ایس ایم ای سیکٹر، برآمدات اور کاروباری اصلاحات سے متعلق اہم تجاویز پیش کیں۔سمٹ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار، یو بی جی کے پیٹرن اِن چیف ایس ایم تنویر، صدر FPCCI عاطف اکرام شیخ، سینئر نائب صدر FPCCI ثاقب فیاض مگوں سمیت حکومتی نمائندوں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان، معاشی ماہرین اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کے عہدیداران نے شرکت کی۔HCSTSI کے وفد نے وفاقی وزراء، FPCCI اور UBG کی قیادت سے ملاقاتیں کرتے ہوئے حیدرآباد اور سندھ کے چھوٹے تاجروں و صنعتکاروں کو درپیش مسائل، توانائی کی بڑھتی لاگت، ٹیکس نظام، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ چھوٹے تاجر اور چھوٹی صنعتیں ملکی معیشت کی بنیاد ہیں، تاہم انہیں مہنگی توانائی، پیچیدہ ٹیکس نظام اور مالی وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایس ایم ای سیکٹر کو آسان قرضوں، جدید ٹیکنالوجی، بہتر صنعتی انفراسٹرکچر اور کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے مضبوط بنایا جائے تاکہ روزگار اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔نائب صدر شان سہگل نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے سرکاری اداروں کی جدید خطوط پر اصلاح، ڈیجیٹل گورننس، تحقیق و ترقی، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی صنعتی پالیسی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور آسان کاروباری ماحول سرمایہ کاری میں اضافے اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے سادہ اور شفاف ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے، کاروباری رجسٹریشن اور لائسنسنگ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور ون ونڈو نظام کے تحت لایا جائے، چھوٹے تاجروں کو آسان مالی سہولیات فراہم کی جائیں، صنعتی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے، تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے، برآمدی شعبے کے لیے مراعات اور ریفنڈز کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، جبکہ حکومت، چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبے کے درمیان مستقل مشاورتی نظام قائم کیا جائے۔وفد کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار سے ہونے والی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے کردار کو سراہتے ہوئے مستقبل قریب میں حیدرآباد آمد کے موقع پر چیمبر سیکریٹریٹ کا دورہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سمٹ کے اختتام پر وفد نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر قومی سطح پر چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل، تجاویز اور مفادات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتاآرہا ہے اورپاکستان اکنامک سمٹ 2026جیسے پلیٹ فارلز سے وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے کاروباری آسانیوں، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے۔
16


