کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے مون سون اور بارشوں سے نمٹنے کی تیاریوں سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو اگست اور ستمبر کے وسط تک مکمل آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔چیف سیکریٹری سندھ نے واضح کیا کہ مون سون کی تیاری صرف صوبائی یا ضلعی سطح تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ٹاؤن اور یونین کونسل کی سطح پر بھی تمام ضروری انتظامات عملی طور پر موجود اور فعال ہونے چاہئیں۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری لائیو اسٹاک، سیکریٹری آبپاشی، سیکریٹری بحالی، سیکریٹری صحت، سیکریٹری اطلاعات، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سندھ، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے شرکت کی۔ تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈائریکٹر جنرل صحت، تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، صوبے کے تمام میئرز جبکہ حیسکو اور سیپکو کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ پی ڈی ایم اے سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے متعلق مختلف واقعات میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ تھرپارکر میں تین بچے اور ایک شخص پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہوئے، جبکہ بدین میں مکان کی چھت گرنے کے باعث ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔
3 جولائی سے جاری بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک پانچ بچوں سمیت مجموعی طور پر 10 افراد جاں بحق اور آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش میرپورخاص کی تحصیل کوٹ غلام محمد میں ریکارڈ کی گئی، جہاں 112 ملی میٹر بارش ہوئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے اور بارش سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ پی ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ صوبے میں 300 ٹرک ماؤنٹڈ ڈی واٹرنگ پمپس دستیاب ہیں، جبکہ امدادی سامان کا بھی وافر ذخیرہ موجود ہے۔ اجلاس کو گڈو اور سکھر بیراجوں سے تقریباً 4 لاکھ 36 ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے گزرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ تمام فیلڈ مشینری کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے اور حفاظتی پشتوں، نہروں اور دیگر حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور مقامات کی بروقت نشاندہی کرکے پیشگی اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی ممکنہ شگاف یا نقصان سے بچا جاسکے۔
آصف حیدر شاہ نے سیکریٹری بلدیات کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں ٹاؤن کی سطح تک تیاری یقینی بنائی جائے۔ تمام ٹاؤن میونسپل افسران کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے متعلقہ اسٹیشنز پر موجود رہیں اور بارش کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کی خود نگرانی کریں۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ تمام ٹی ایم اوز اور فیلڈ افسران ہنگامی صورتحال کے دوران اپنے علاقوں میں موجود رہیں۔ فرائض کی انجام دہی میں غیر حاضری، غفلت یا لاپروائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے حیسکو اور سیپکو کو بارش کے دوران اپنے ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، خصوصاً نکاسی آب کے ڈسپوزل اور پمپنگ اسٹیشنز کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
حیسکو اور سیپکو کے حکام ضلعی انتظامیہ، میئرز اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور پمپنگ و ڈسپوزل اسٹیشنز کی بجلی کی بحالی کو ترجیح دیں۔
میئر حیدرآباد نے اجلاس کو بتایا کہ شہر میں نالوں اور نکاسی آب کے راستوں کی صفائی مکمل کرلی گئی ہے اور ڈی واٹرنگ مشینری بھی دستیاب ہے۔ حیدرآباد میں 128 پمپنگ اسٹیشنز اور تقریباً 50 جنریٹرز دستیاب ہیں، جبکہ ہنگامی صورتحال میں مزید جنریٹرز کرائے پر حاصل کرنے کے انتظامات بھی موجود ہیں۔ میئر سکھر نے بتایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر تیار ہیں۔ میئر شہید بینظیرآباد نے بھی شہر میں کیے گئے انتظامات سے آگاہ کیا اور مزید جنریٹرز کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ میئر میرپورخاص نے بتایا کہ ڈی واٹرنگ پمپس کی مدد سے مرکزی سڑکوں اور بازاروں سے بارش کا پانی نکال دیا گیا ہے۔ میئر لاڑکانہ نے اجلاس کو بتایا کہ یونین کونسل کی سطح پر تیاریاں مکمل ہیں اور تمام ٹیموں کو ان کی ذمہ داریاں تفویض کردی گئی ہیں۔
محکمہ صحت نے اجلاس کو بتایا کہ مون سون کنٹیجنسی پلان کے تحت بیماریوں کی روک تھام اور علاج، دونوں پہلوؤں پر کام کیا جارہا ہے۔ پی پی ایچ آئی نے بھی اپنا کنٹیجنسی پلان تیار کرلیا ہے، جبکہ سرکاری ڈسپنسریوں اور دیگر طبی مراکز کو بارش یا سیلاب کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ اور اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں سانپ کے کاٹے کے علاج کے لیے اینٹی اسنیک وینم دستیاب ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ صحت کو ضروری ادویات، اینٹی اسنیک وینم اور طبی عملے کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی، خصوصاً دیہی اور حساس علاقوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ محکمہ لائیو اسٹاک نے مون سون ایس او پیز پر عملدرآمد شروع کردیا، بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر میں جانوروں کی ویکسینیشن مہم جاری ہے،


