18

ایف آئی اے کی کارروائی، جوڑیا بازار میں مبینہ حوالہ/ہنڈی نیٹ ورک بے نقاب، ایک کروڑ سے زائد رقم برآمد

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے کمرشل بینکس سرکل کراچی نے جوڑیا بازار میں مبینہ غیر قانونی حوالہ/ہنڈی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لینے اور ایک کروڑ روپے سے زائد نقد رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایف آئی اے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون **منتظر مہدی** کی خصوصی ہدایات اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کمرشل بینکس سرکل کراچی کی نگرانی میں کی گئی۔

ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران مرکزی ملزم **حارث** اور اس کے ایک ساتھی کو حراست میں لیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے مبینہ طور پر ڈیجیٹل شواہد اور ہاتھ سے تحریر کردہ لیجر برآمد ہوا، جس میں بینکاری نظام کے بغیر حوالہ/ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ موجود تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق چھاپے کے دوران **1 کروڑ 50 ہزار روپے (10.05 ملین روپے)** نقد رقم بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لی گئی۔

ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ مالیاتی ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ مبینہ غیر قانونی حوالہ/ہنڈی نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں، مالی معاونین اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔

ادارے نے کہا ہے کہ مالیاتی جرائم، منی لانڈرنگ، حوالہ/ہنڈی اور غیر قانونی رقوم کی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

### **HRNW کی حمایت کریں**

انسانی حقوق، انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق مستند خبریں، تحقیقی رپورٹس اور آگاہی مہمات جاری رکھنے میں **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔

**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ خبر میں شامل الزامات اور دعوے تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور ان کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** غیر جانبدار صحافتی اصولوں کے تحت تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں