**راولپنڈی (ایچ آراین ڈبلیو)** – پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے اور حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی پر بھی یکساں توجہ دی جانی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہر پاکستانی کی پہلی اور آخری شناخت پاکستان ہونی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہر شہری کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی نسلی یا علاقائی شناخت سے بالاتر ہو کر پاکستانیت کو مقدم رکھے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست، آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہیں اور پاکستان میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلنے چاہییں۔ ان کے بقول “ہارڈ اسٹیٹ” کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کو فوج چلا رہی ہے، بلکہ اس سے مراد قانون کی بالادستی اور آئین پر عملدرآمد ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ شدت پسند گروہوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان کے حوالے سے دانستہ منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت اور افغانستان پر دہشت گردی کے حوالے سے مشترکہ ایجنڈا رکھنے کا بھی الزام عائد کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے امن، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ریاست تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا، امن اور خودمختاری پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ کے صبر، استقامت اور قربانیوں کو بھی سلام پیش کیا۔
—
### **HRNW کی حمایت کریں**
انسانی حقوق، انصاف، امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق مستند خبریں، تحقیقی رپورٹس اور عالمی آگاہی مہمات جاری رکھنے میں **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر ڈی جی آئی ایس پی آر کے عوامی بیان پر مبنی ہے۔ خبر میں شامل بعض مؤقف متعلقہ ادارے کے بیانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** غیر جانبدار صحافتی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو شائع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔


