8

کراچی میں فوری طور پر ایک لاکھ ماحول دوست درخت لگائے جائیں، فوزیہ صدیقی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی، حبس اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کم از کم ایک لاکھ ماحول دوست درخت لگانے کا جامع اور شفاف منصوبہ شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی میں ایک جانب پرانے درخت تیزی سے کاٹے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے درخت لگانے پر کوئی مؤثر توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو مسلسل کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سبزہ ختم ہونے سے درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور شہری شدید گرمی اور حبس کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نمائشی شجرکاری مہمات عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہیں کیونکہ درخت لگانے کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر ان منصوبوں کو مکمل نہیں کیا جاتا۔ گرین منصوبوں کے نام پر عوامی وسائل ضائع کیے گئے جبکہ متعدد شجرکاری منصوبے کرپشن کی نذر ہو گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت کراچی میں ایک لاکھ سے زائد درخت لگانے کا قابلِ عمل، شفاف اور قابلِ نگرانی منصوبہ فوری طور پر شروع کرے تاکہ شہریوں کو صاف ماحول فراہم کیا جا سکے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر “گرین کراچی منصوبہ” ہنگامی بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی این جی اوز اور ماحولیاتی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ کراچی کو سرسبز بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری منصوبوں میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی فوری طور پر روکی جائے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث شہر کا ماحولیاتی توازن تیزی سے بگڑ رہا ہے۔

فوزیہ صدیقی نے خبردار کیا کہ اگر آج کراچی کو سرسبز بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں شدید گرمی، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ماحول کا تحفظ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے فوری، مؤثر اور شفاف اقدامات ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں