7

کراچی: شریف آباد میں 3 سالہ بچی کی ہلاکت کا معمہ حل، ڈکیتی کی کہانی جھوٹی نکلی: پولیس

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کراچی نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف آباد کے علاقے ایف سی ایریا رئیس امروہوی کالونی میں 3 سالہ بچی **فروا** کی ہلاکت کا مقدمہ چند گھنٹوں میں ٹریس کرتے ہوئے واقعے کی حقیقت سامنے لے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ڈکیتی کے دوران گولی لگنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم تحقیقات میں یہ مؤقف درست ثابت نہیں ہوا۔

ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل **ڈاکٹر محمد عمران خان** کے مطابق بچی کے والد **محمد رحمان** نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے بچی جاں بحق ہوئی۔ تاہم پولیس کو جائے وقوعہ کی نشاندہی نہیں کرائی گئی، جبکہ مبینہ مقام سے نہ خون کے نشانات ملے اور نہ ہی گولی کا خول برآمد ہوا۔

پولیس کے مطابق مزید تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ بچی کی میت کو **عباسی شہید اسپتال** سے پوسٹ مارٹم کرائے بغیر لے جایا گیا، جبکہ لواحقین کے بیانات میں بھی واضح تضاد پایا گیا، جس پر پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ تحقیقات کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ بچی **فروا** اپنے والد **محمد رحمان** کی رائفل سے حادثاتی طور پر چلنے والی گولی کا نشانہ بنی۔ پولیس کے مطابق ملزم گھر میں رائفل صاف کر رہا تھا کہ اچانک گولی چل گئی، جس سے بچی جاں بحق ہو گئی۔

پولیس نے مزید دعویٰ کیا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ملزم نے ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق پولیس نے ملزم **محمد رحمان** کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ آلۂ قتل رائفل اور واقعے کے بعد تبدیل کیے گئے خون آلود کپڑے بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔ مقدمے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

### **HRNW کی حمایت کریں**

انسانی حقوق، انصاف، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔

**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر کراچی پولیس، ڈسٹرکٹ سینٹرل کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** غیر جانبدار صحافتی اصولوں کے تحت تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف شائع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں