کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ نے کہا ہے کہ لیاقت آباد ٹاؤن کراچی کا ایک اہم کاروباری اور تجارتی مرکز ہونے کے باوجود بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹاؤن انتظامیہ کی ناقص کارکردگی نے لیاقت آباد ٹاؤن کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا ہے، جہاں صفائی، سیوریج، پارکس، سڑکوں اور تجاوزات سمیت ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔
محمد علی بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ لیاقت آباد ٹاؤن کے تقریباً تمام بلاکس گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ گٹر اور نالیاں ابل رہی ہیں، جس کے باعث تعفن پھیل رہا ہے اور ڈینگی، ملیریا، گیسٹرو اور دیگر وبائی امراض کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دوسری گلی میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں، مگر ٹاؤن انتظامیہ عوام کو بنیادی صفائی کی سہولت فراہم کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیاقت آباد ٹاؤن کے عوام نے تبدیلی کی امید پر جماعت اسلامی کے چیئرمین کو منتخب کیا، لیکن آج تک شہریوں کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
محمد علی بلوچ نے کہا کہ ٹاؤن کا سیوریج نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور جن سڑکوں کی تعمیر کی گئی وہ بھی مختصر عرصے میں خستہ حال ہو گئیں، جو ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیاقت آباد ٹاؤن میں تجاوزات کی بھرمار ہے جبکہ جعلی پورشن اور غیر قانونی تعمیرات کا کاروبار کھلے عام جاری ہے۔ قبضہ مافیا 45 گز کے پلاٹوں پر 6 سے 7 منزلہ عمارتیں تعمیر کرکے فروخت کر رہا ہے، جو نہ صرف تعمیراتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ کسی بھی وقت بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی تعمیرات، قبضہ مافیا اور جعلی پورشن مافیا کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیاقت آباد جیسے گنجان آباد علاقے میں آج تک کوئی بڑا فیملی پارک تعمیر نہیں کیا گیا جبکہ موجودہ پارکس بھی تباہ حالی کا شکار ہیں، جس سے شہری خصوصاً بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے تفریحی سہولیات تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔
محمد علی بلوچ نے مطالبہ کیا کہ لیاقت آباد ٹاؤن کے ترقیاتی فنڈز اور بجٹ کا فوری، شفاف اور فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹاؤن انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی تو اس کی ذمہ داری منتخب قیادت پر عائد ہوگی۔


