4

بوری بازار کی تاریخی فدا علی بلڈنگ کے انہدام پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – کراچی کے علاقے بوری بازار میں واقع تاریخی **فدا علی بلڈنگ (SB/7/143)** کے مکمل انہدام کے معاملے پر شہریوں اور مختلف متعلقہ حلقوں نے وزیر ثقافت سندھ، سیکرٹری ہیریٹیج سندھ اور ڈائریکٹر جنرل ہیریٹیج سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ کمیٹی نے عمارت کے لیے این او سی جاری کرتے وقت واضح ہدایت دی تھی کہ تاریخی عمارت کے اصل اسٹرکچر کو محفوظ رکھا جائے، تاہم اس کے باوجود پوری عمارت مسمار کر دی گئی۔ اس صورتحال کے بعد یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا این او سی کی شرائط پر عملدرآمد کیا گیا یا نہیں، اور اگر نہیں کیا گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کا غیر جانبدارانہ اور تکنیکی معائنہ کرایا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ این او سی، متعلقہ سرکاری ریکارڈ، منظوریوں اور عمارت کے انہدام کے تمام مراحل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

شہریوں نے وزیر ثقافت سندھ، سیکرٹری ہیریٹیج سندھ اور ڈائریکٹر جنرل ہیریٹیج سے اپیل کی ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی فرد، ادارے یا سرکاری اہلکار کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانونی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں تاریخی ورثے اور ثقافتی عمارتوں کو اس نوعیت کے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

**حمایت کریں (Support HRNW):**
انسانی حقوق، ثقافتی ورثے کے تحفظ، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں۔
**Support Link:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر دستیاب معلومات، ذرائع اور متعلقہ شہریوں کے مطالبات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ این او سی کی شرائط، قانونی ذمہ داریوں اور ممکنہ خلاف ورزیوں کا حتمی تعین صرف متعلقہ سرکاری تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ **HRNW** غیر جانبدار صحافت اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق تمام متعلقہ اداروں اور فریقین کا مؤقف شائع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں