کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) انصاف لائرز فورم کراچی کے سینئر رہنما اور معروف قانوندان ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا ہے کہ رجیم چینج کے بعد برسراقتدار آنے والی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی، ٹیکسوں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں ہونے والی بے ضابطگیاں اور آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس ملکی تاریخ کا ایک بڑا معاشی بوجھ بن چکی ہیں، جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں آئی پی پیز کو 7 ہزار 275 ارب روپے سے زائد کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے، حالانکہ ان بجلی گھروں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔ عوام سے بجلی کے بلوں کے ذریعے یہ خطیر رقم وصول کرکے ایسے اداروں کو ادا کرنا معاشی ناانصافی اور عوام کے ساتھ سنگین ظلم ہے۔ اس نظام نے بجلی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کردیا ہے جبکہ صنعت، تجارت اور معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ بجلی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کا ایسا طوفان برپا کیا ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں جبکہ حکمران اشرافیہ اپنی مراعات اور عیش و عشرت میں مصروف ہے۔ اربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکال کر مخصوص طبقات اور طاقتور مفادات کو منتقل کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ فارم 47 کی حکومت عوامی مسائل کے حل میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے۔ معاشی بحران، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باوجود حکومت عوامی آواز سننے کے بجائے ہر تنقیدی اور اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جو جمہوری اقدار اور آئینی آزادیوں کے منافی ہے۔
ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے شعبے میں کیپیسٹی پیمنٹس سمیت تمام معاہدوں کی مکمل شفاف تحقیقات کی جائیں، عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے، بجلی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی لائی جائے اور ایسے تمام فیصلوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے جن سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو معاشی انصاف، آئینی حقوق اور حقیقی ریلیف فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔


