**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – انسپکٹر جنرل پولیس سندھ **جاوید عالم اوڈھو** کی زیر صدارت **پریا کماری گمشدگی کیس** سمیت دیگر گمشدگی کی شکایات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں **ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ اور اے آئی جیز** نے بالمشافہ شرکت کی، جبکہ زونل و ڈویژنل ڈی آئی جیز اور متعلقہ ایس ایس پیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران **اے آئی جی جینڈر بیسڈ وائلنس اینڈ ہیومن رائٹس** نے پریا کماری گمشدگی کیس سمیت دیگر گمشدگی کے مقدمات اور ان میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ دنوں میں **پسند کی شادی اور میاں بیوی کے ذاتی تنازعات** کے باعث گمشدہ ظاہر کیے جانے والے **تین بچوں کو بحفاظت بازیاب** کرایا گیا، جنہیں متعلقہ عدالتوں میں پیش کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ **پریا کماری گمشدگی کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کے بعد ازسرِنو تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔** ایس ایس پی سکھر نے کیس کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پریا کماری کیس سمیت تمام گمشدہ بچوں کی بازیابی سے متعلق تحقیقات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے، اس حوالے سے مستقل اجلاس منعقد کرکے پیش رفت رپورٹس پیش کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گمشدگی کا مقدمہ درج ہونے کے بعد کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا عدم پیش رفت کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ صوبے میں سنگین جرائم کے ساتھ ساتھ **بچوں کی گمشدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات میں کمی لانا پولیس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔**
انہوں نے بچوں کی بازیابی اور دیگر اہم مقدمات میں **اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU)** کی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیا۔
آئی جی سندھ نے مزید ہدایت کی کہ بچوں کی گمشدگی اور زیادتی سے متعلق تمام مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لے کر تازہ پیش رفت پر مبنی جامع اور حتمی رپورٹ جلد پیش کی جائے۔
—
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر سندھ پولیس کے تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) اس میں شامل تمام دعوؤں یا تحقیقات کے نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ یہ معلومات صرف عوامی آگاہی اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کی جا رہی ہیں۔


