حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) ویمن پولیس اسٹیشن حیدرآباد میں خواتین کی قیادت، تحفظ اور بااختیار بنانے کے فروغ کے مقصد سے “ڈسٹرکٹ ویمن لیڈرشپ فورم، حیدرآباد” کے قیام کے سلسلے میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کا انعقاد سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام (CSSP) نے ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد کے تعاون سے کیا۔
اجلاس میں ڈی ایس پی پارس باکرانی، سی ایس ایس پی کے ہیڈ آف پروگرامز عبدالواحد سنگراسی، سینیٹر کرشنا کماری، ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن انسپکٹر سکینہ بھٹی، مائنارٹی سیل سے نوشین سلاوٹ، لیڈی پولیس افسران، ضلعی کونسلرز، خواتین وکلا، سوشل ویلفیئر افسران، سماجی کارکنان، کاروباری شخصیت ایرم ماریہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماؤں، کاروباری خواتین اور نوجوان نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران خواتین کے تحفظ، قانونی معاونت، معاشی خودمختاری، قیادت کے فروغ اور سیاسی و سماجی شمولیت کے لیے ایک مؤثر اور مشترکہ پلیٹ فارم کے قیام کی ضرورت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کے تحفظ میں پولیس، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے، نوجوان خواتین کی رہنمائی اور کاروباری خواتین کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا گیا۔
تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر “ڈسٹرکٹ ویمن لیڈرشپ فورم، حیدرآباد” کے قیام کی منظوری دی گئی، جس کا وژن درج ذیل مقرر کیا گیا:
“باخبر، متحد، محفوظ، بااختیار اور خوشحال خواتین”
اجلاس میں فورم کے عہدیداران کا بھی انتخاب عمل میں لایا گیا، جن کے مطابق:
– چیئرپرسن: محترمہ زیب النساء ملاح
–
– جنرل سیکریٹری: محترمہ زمرد بھٹی
اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے اپنے پیغام میں کہا کہ “خواتین کا تحفظ، عزت اور بااختیار بنانا سندھ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کے لیے محفوظ، بااعتماد اور مساوی ماحول کی فراہمی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور ڈسٹرکٹ ویمن لیڈرشپ فورم اس مقصد کے حصول میں ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرے گا۔ ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔”
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ ویمن لیڈرشپ فورم، حیدرآباد ضلع بھر کی خواتین کے حقوق، تحفظ، ترقی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کرے گا، جبکہ آئندہ اجلاس میں فورم کے عملی لائحہ عمل، رکنیت کے طریقۂ کار اور مستقبل کی سرگرمیوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔


