**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیرِ صدارت سندھ پولیس کی **ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری** کے قیام سے متعلق تجاویز کا جائزہ اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)، ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، آئی ٹی، ٹی اینڈ ٹی، ٹریننگ اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پروجیکٹ ڈائریکٹر آئی ٹی نے سندھ پولیس کی مجوزہ ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری کے قیام، اس کے دائرہ کار، تکنیکی ضروریات اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ دور میں تقریباً **97 فیصد تفتیشی مقدمات میں موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل آلات اہم شواہد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں**، جبکہ عالمی سطح پر تقریباً **90 فیصد فوجداری مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد کا کردار موجود ہوتا ہے**۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تفتیشی عمل میں ڈیجیٹل شواہد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر سندھ پولیس کے لیے جدید ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترامیم اور جدید تحقیقاتی نظام کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ہدایت کی کہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں قائم ڈیجیٹل فارنزک لیب کمیٹی اپنی سفارشات اور تجاویز کو جلد حتمی شکل دے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری کے قیام کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے جس میں ادارہ جاتی ڈھانچہ، افرادی قوت، انفراسٹرکچر، جدید آلات، سافٹ ویئر، تربیتی ضروریات، قانونی تقاضے اور مالی تخمینہ شامل ہو۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ جدید جرائم کا مقابلہ روایتی طریقوں سے ممکن نہیں، مؤثر اور معیاری تفتیش کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل شواہد اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پولیس کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور پیشہ ورانہ پولیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری اس وژن کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
انسانی حقوق کے تناظر میں جدید اور سائنسی تفتیشی نظام شہریوں کو بہتر انصاف کی فراہمی، شفاف تحقیقات اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل شواہد کے استعمال کے دوران شہریوں کی رازداری، ڈیٹا تحفظ اور قانونی حقوق کا خیال رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
HRNW اس پیش رفت کو شہری تحفظ، انصاف کے نظام میں بہتری اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فرد، ادارے یا حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل معلومات سندھ پولیس کے ترجمان کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ کسی بھی منصوبے کے عملی نتائج متعلقہ اداروں کی کارروائی اور قانونی تقاضوں سے مشروط ہوں گے۔


