ملتان (ایچ آر این ڈبلیو) — ملتان میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اسی معاملے میں شکایت درج نہ کروانے یا کارروائی میں تاخیر کے باعث خود کشی کر لی۔ واقعے کے بعد ریجنل پولیس آفیسر (RPO) نے نوٹس جاری کر دیا ہے اور ضلعی پولیس میں متعدد افسران کے خلاف تادیبی یا انتظامی کارروائی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ مقامی تھانے کے ایس ایچ او، تفتیشی افسر، محرر اور دیگر متعلقہ اہلکاران کے خلاف تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔ ایک یا زائد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جب کہ متاثرہ خاتون کے ورثا کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
حکام نے واقعے کی فوری طور پر آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا حکم دیا ہے تاکہ تاخیر یا نااہلی کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے اور مقدمے کی تفصیلی تفتیش کا وعدہ کیا ہے۔
نوٹ: یہ اطلاعات ابتدائی رپورٹس اور پولیس ذرائع کی بنیاد پر ہیں اور تفتیش کے نتیجے میں حقائق میں تبدیلی ممکن ہے۔
انسانی حقوق کا زاویہ
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنسی تشدد کے متاثرین کو فوری، باوقار اور مؤثر قانونی و طبی معاونت فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ پولیس کی غیر فعال رویّہ یا کارروائی میں تاخیر متاثرین کے حقوق اور سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے واقعات کی آزاد، شفاف اور وقتاً فوقتاً تفتیش ضروری ہے، اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے جبکہ متاثرہ خاندان کو مناسب امداد اور تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں
👉 https://www.hrnww.com/?page_id=1083
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر ابتدائی اطلاعات اور مقامی حکام کے اقدامات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کسی بھی فرد کی قانونی ذمہ داری یا جرم کا حتمی تعین صرف مجاز عدالت کرے گی۔ ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کا مقصد انسانی حقوق، شفاف احتساب اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔
***
کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس خبر میں آر پی او کے جاری کردہ نوٹس کی متن، گرفتار افراد کے نام، یا تفتیشی حکام کے باضابطہ بیانات شامل کر دوں؟


