کراچی، (ایچ آراین ڈبلیو)– سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام اوپن ڈے کے موقع پر ماحولیاتی انفارمیٹکس اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس کے موضوع پر ایک فکر انگیز ریسرچ سمپوزیم کا انعقاد کیاگیاجس کا مقصد حال ہی میں شروع کیے گئے ماسٹرز پروگرام برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انفارمیٹکس کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا۔اس پروگرام کو طلبہ اور ماہرین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔پہلے گروپ میں تقریباََ 20 طلبہ نے داخلہ لیا۔یہ سمپوزیم یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والے ایراسمس+ منصوبے ایکٹیو کلائمیٹ ایکشن کے تحت منعقد ہوا، جس کا مقصد جدید اعدادوشمار کے تجزیے کے ذریعے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے اور انکے حل کے لیے نئے طریقہ کار اور حکمت عملی کو روبہ عمل لانا تھا۔ اس میں ماہرین، محققین اور طلباء کو اکٹھا کیا گیا تاکہ جدید تجزیات، ماحولیاتی انفارمیٹکس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے کردار پر بات چیت کی جا سکے۔۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر جعفر نذیر عثمانی تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر خالق خانزادہ سمیت طلباء کی ایک کثیر تعداد شامل تھی۔۔
سمپوزیم کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر نے کی، جو فیکلٹی آف الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ اور فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ ایپلائیڈسائنسز کے ڈین ہیں۔شعبہ کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ،ڈاکٹر کاشف شیخ نے کو چیئر کے طور پر خدمات انجام دیں۔آرگنائزنگ ٹیم کے ارکان میں جنرل چیئر ڈاکٹر محمد ندیم، کوجنرل چیئر پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید پٹافی، ٹیکنیکل چیئر ڈاکٹر ولیج حیدر اور سیشن چیئر ڈاکٹر یوسف عرفان ضیا شامل تھے۔
کلیدی مقرر، آپریشن لیڈر، سجاد احمد خان نے اس موقع پر ایک بہترین اور معلوماتی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے ماحولیاتی تحقیق میں ڈیٹا کی پرائیویسی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور پائیدار ڈیٹا کے طریقوں، پیشگوئی ماحولیاتی ماڈلنگ اور مؤثر موسمیاتی ڈیٹا بصریات پر بات کی۔ انہوں نے طلباء اور محققین کو قومی اور عالمی موسمیاتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ماحولیاتی طور پر ذمہ دار منصوبے تیار کرنے کی ترغیب دی۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر نے اس بات پر زور دیا کہ ایکٹیو منصوبہ اس اصول پر قائم ہے کہ جامعات نئی نسل کے محققین کو ایسا علم، تکنیکی مہارت اور ذمہ داری کا احساس دلائیں جو ماحول کے تحفظ اور پائیدار مستقبل کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں یورپ اور شراکت دار ممالک کی چھ جامعات اور دو تنظیمیں شامل ہیں، جو بین الاقوامی تعلیمی تعاون، نصاب کی ترقی اور ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر کے لیے ایک موثر و فعال پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انفارمیٹکس میں ماسٹرز پروگرام کو بہت اچھا فیڈبیک ملا ہے جو اس اہم شعبے کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عامر نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انفارمیٹکس میں ماسٹرز پروگرام کی شروعات، سرسید یونیورسٹی کی بین الضابطہ تعلیم کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو موسمیاتی سائنس، ماحولیاتی تحقیق، ڈیٹا تجزیات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے طلباء کو اس شعبے میں تحقیق جاری رکھنے اور کراچی، پاکستان اور وسیع تر علاقوں میں ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی حل فراہم کرنے کی ترغیب دی۔
طلباء کی جدت پر بات کرتے ہوئے شعبہ کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر کاشف شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے کی حد تک پروجیکٹس بنانے کے بجائے انھیں قابل عمل مصنوعات میں ڈھالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی کا مقصد ایسے گریجویٹس تیار کرنا ہے جو نہ صرف ہنر مند ہوں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کام کرنے کے قابل ہوں، تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔
22


