20

بغیر بینک چالان روڈ کٹنگ کی اجازت، قیوم آباد میں درخت کاٹنے پر شہری مشتعل

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – کورنگی ٹاؤن کے چیئرمین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے قیوم آباد میں ایک نجی ٹھیکیدار کو روڈ کٹنگ کی مقررہ فیس کا بینک چالان جمع کرائے بغیر تقریباً 100 فٹ چوڑی اور 1600 فٹ لمبی مرکزی سڑک کی کھدائی کی اجازت دے دی۔

اطلاعات کے مطابق قیوم آباد میں سر سید اسپتال کے سامنے واقع مرکزی سڑک اور اس کے ساتھ موجود سیوریج نالہ کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک کے کنارے شجرکاری کر رکھی تھی تاکہ علاقے کو سرسبز اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق نجی ٹھیکیدار نے ابتدائی طور پر مبینہ طور پر کسی باقاعدہ اجازت نامے کے بغیر سڑک کی کھدائی شروع کر دی، جس پر علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور ٹھیکیدار کو مزدوروں سمیت اپنے ساتھ لے گئی۔

مقامی افراد کا الزام ہے کہ بعد ازاں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض ٹھیکیدار کو روڈ کٹنگ کی اجازت دے دی گئی، جبکہ روڈ کٹنگ فیس کی مد میں کوئی سرکاری بینک چالان جمع نہیں کرایا گیا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق کھدائی کے دوران سڑک کے کنارے موجود متعدد درخت اور پودے بھی کاٹ دیے گئے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین بیلٹ کو نقصان پہنچانا نہ صرف ماحولیاتی قوانین بلکہ شہری مفاد کے بھی خلاف ہے۔

شہریوں کے احتجاج کے بعد یونین کمیٹی قیوم آباد کے ذمہ داران موقع پر پہنچے اور مبینہ طور پر روڈ کٹنگ کا کام فوری طور پر رکوا دیا۔

اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے کورنگی ٹاؤن کے چیئرمین نعیم شیخ سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل کیے جانے تک انہوں نے نہ فون کال موصول کی اور نہ ہی بھیجے گئے پیغام کا کوئی جواب دیا۔

شہریوں نے حکومت سندھ، کراچی میونسپل کارپوریشن، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا غیرقانونی اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ متاثرہ گرین بیلٹ کی بحالی اور دوبارہ شجرکاری بھی یقینی بنائی جائے۔

**🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

مزید آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد کی خبروں کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں:

**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

**⚠️ ڈسکلیمر**

یہ خبر موصول ہونے والی معلومات، مقامی ذرائع اور متعلقہ فریقین کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مذکورہ الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق یا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ HRNW غیرجانبدار صحافتی اصولوں کے تحت تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف شائع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی نئے یا مصدقہ مؤقف کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں