**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):**کراچی گرینڈ الائنس کے زیرِ اہتمام ایک اہم اجلاس چیئرمین **اسلم خان** کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں شہر کو درپیش بنیادی مسائل، ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں شریک رہنماؤں نے کراچی کے انفراسٹرکچر، پانی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، روزگار اور شہری سہولیات کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے معاشی مرکز کو بہتر حکمرانی اور مؤثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔
شرکاء نے **K-IV منصوبے کی تاخیر، روزگار کے مواقع میں کمی، تعلیمی نظام کے مسائل اور مردم شماری سے متعلق تحفظات** پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے مستقل اور مؤثر پالیسی سازی ضروری ہے۔
اجلاس میں کراچی گرینڈ الائنس کی جانب سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ:
**”کراچی کو الگ انتظامی یونٹ کا درجہ دیا جائے، اور جب تک یہ ممکن نہیں ہوتا، شہر کے انتظامی معاملات وفاقی حکومت کے حوالے کیے جائیں۔”**
مقررین نے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی سطح پر خصوصی توجہ، بہتر منصوبہ بندی اور شفاف نگرانی کی ضرورت ہے۔
اجلاس سے **مرزا سلیم بیگ، اشرف خان، یوسف امام، سید مشرف حسین، حسین خان رامپوری، محمد علی شہزاد، سید باقر زیدی، جاوید الرحمن خان، راحیل الرحمن ایڈووکیٹ، مہربان علی خان** اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہری مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، شہری مسائل، شفاف حکمرانی، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر کراچی گرینڈ الائنس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز اور بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں شامل مطالبات اور مؤقف تنظیم کے نمائندوں کے ہیں۔ HRNW تمام سیاسی، سماجی اور عوامی معاملات پر متوازن اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔


