کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) جامعہ کراچی میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک سابق رکن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی یکطرفہ رہی اور صرف جمعیت سے وابستہ افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس میں اقدامِ قتل سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ جامعہ میں سرگرم قوم پرست عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ واقعے کو قوم پرستی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیان میں ایف آئی آر میں نامزد بعض افراد کے سندھ سے تعلق رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلامی جمعیت طلبہ میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد سندھی طلبہ کی بھی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلامی جمعیت طلبہ ایک ملک گیر طلبہ تنظیم ہے جس میں مختلف قومیتوں کی نمائندگی موجود ہے، اور جامعہ کراچی کی تنظیمی ذمہ داریوں میں بھی مختلف سندھی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
بیان کے آخر میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا گیا-


