24

سانحۂ اردو 1972ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا خطاب

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سانحۂ اردو 1972ء کی 54 ویں برسی کے موقع پر یادگارِ شہداء پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ اس موقع پر اراکینِ مرکزی کمیٹی، حق پرست ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹی عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 9 جولائی 1972ء قومی زبان اردو کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی یاد کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اجداد اپنے حصے کا پاکستان اور دیگر مسلمانوں کے لیے آزادی کا پروانہ لے کر آئے تھے اور وطن کی خاطر بے مثال قربانیاں دیں۔

چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ نصاب میں تبدیلی سے تاریخ کے حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے، جبکہ بدنیتی اور لسانی تعصب نے آزادی کے اصل مفہوم کو دھندلا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والوں نے ملک کو ایک مشترکہ قومی زبان فراہم کی اور آج ملک کی مختلف اکائیاں باہمی رابطے کے لیے اسی زبان سے استفادہ کرتی ہیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم ملک کی وحدت، قومی زبان کے فروغ اور بانیانِ پاکستان کے نظریات کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں