کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت نے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے امتحانی نظام کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے بورڈز کے عملے کو آئی ٹی ماہرین کی خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ جدید آلات بھی مہیا کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو کی زیرِ صدارت سیکریٹری جامعات کے دفتر میں ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری جامعات محمد عباس بلوچ، صوبے بھر کے انٹرمیڈیٹ، سیکنڈری اور ٹیکنیکل تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز، ایشیائی ترقیاتی بینک کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے نمائندوں، پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر لقمان نوہڑی اور امتحانی اصلاحات کے ماہر عطا حسین لاکھو نے شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت امتحانی نظام کی جدید کاری، ای مارکنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور تعلیمی بورڈز کی استعدادِ کار بڑھانے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ روایتی امتحانی طریقہ کار کی جگہ ای مارکنگ متعارف کرائی جا رہی ہے، جبکہ اس اہم منصوبے کی منظوری کے لیے تجاویز سندھ کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ سے منظوری کے بعد منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعلیمی بورڈز کے عملے کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے آئی ٹی ماہرین خصوصی تربیت فراہم کریں گے، جبکہ منصوبے کے تحت تمام تعلیمی بورڈز کو اسکینرز، کٹنگ مشینیں، سرورز اور دیگر جدید آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
ترجمان کے مطابق چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی، فقیر محمد لاکھو کو امتحانی نظام کی جدید کاری کے منصوبے کا فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے۔
محمد اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات سندھ کے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تعلیمی بورڈز کی ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور امتحانی و گورننس سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرکے میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔


