کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سینئر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے صوبائی وزراء مخدوم محبوب الزمان، محمد علی ملکانی اور سردار محمد بخش خان مہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کابینہ کا طویل اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم معاشی و زرعی معاملات پر فیصلے کیے گئے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ اور پنجاب میں بمپر گندم فصل ہوئی، تاہم ذخیرہ اندوزوں نے کاشتکاروں سے بڑی مقدار میں گندم خرید لی جس کے باعث مارکیٹ میں مسائل پیدا ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں کے گودام سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مدد لی جائے گی۔ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ریٹیل مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
سینئر وزیر کے مطابق سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کو اس منصوبے میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ایس آئی ٹی سی کو منصوبے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ قومی گندم پالیسی 2026-2030 کے جائزے کے لیے سیکریٹری خوراک، زراعت اور قانون پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جسے مقررہ مدت میں اپنی سفارشات صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ شوگر سیکٹر میں مشروط ڈی ریگولیشن اور مرحلہ وار تجارتی آزادی کی حمایت کی گئی ہے، تاکہ شعبے میں شفافیت اور استحکام پیدا کیا جا سکے۔


