اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان میں مالی شفافیت کو فروغ دینے اور ٹیکس نیٹ کو مؤثر بنانے کے لیے حکومت نے بڑے پیمانے پر بینک ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت یکم جولائی 2026 سے وہ تمام افراد سخت جانچ کے دائرے میں آ جائیں گے جن کے بینک اکاؤنٹس میں 6 ماہ کے دوران مجموعی جمع یا نکلوائی گئی رقم 10 کروڑ روپے (100 ملین) سے زیادہ ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد بینکنگ ریکارڈ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس ریکارڈ کی کراس میچنگ کرنا ہے، تاکہ کم ظاہر کی گئی آمدن، فروخت چھپانے اور غیر ظاہر شدہ مالی لین دین کی نشاندہی کی جا سکے۔
نئے نظام کے تحت تمام بینک اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) مقررہ مالیاتی ڈیٹا الیکٹرانک طریقے سے اپ لوڈ کرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ میں مجموعی جمع (کریڈٹس)، مجموعی نکلوائی گئی رقم (ڈیبیٹس)، ابتدائی اور اختتامی بیلنس، جبکہ مدت کے دوران سب سے زیادہ کریڈٹ بیلنس (Peak Credit) شامل ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ رپورٹنگ تمام اقسام کے بینک اکاؤنٹس پر لاگو ہوگی، جن میں کرنٹ اکاؤنٹس، سیونگ اکاؤنٹس، فکسڈ یا ٹرم ڈپازٹس اور دیگر تمام ڈپازٹ اکاؤنٹس شامل ہیں۔
جمع کیا گیا ڈیٹا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے محفوظ سنٹرل ڈیٹا ہب میں محفوظ کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں ٹیکس افسران کو بینک ڈیٹا تک براہِ راست رسائی حاصل نہیں ہوگی، تاہم اگر کسی اکاؤنٹ میں نمایاں تضاد (Mismatch) سامنے آیا تو کیس کو کمپلائنس رسک مینجمنٹ (CRM) سسٹم کے ذریعے جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں ایسے کیسز نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے نمٹائے جائیں گے۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق بینک ڈیٹا کی مکمل رازداری برقرار رکھی جائے گی اور اس کا استعمال صرف ٹیکس قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بینک ٹرانزیکشنز کی رپورٹنگ ہر 6 ماہ بعد کی جائے گی۔
پہلا دورانیہ 1 جولائی تا 31 دسمبر ہوگا، جس کی رپورٹ 31 جنوری تک جمع کرانا لازم ہوگا، جبکہ دوسرا دورانیہ 1 جنوری تا 30 جون ہوگا اور اس کی رپورٹ 31 جولائی تک دی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام سے بڑے مالی لین دین کو ٹیکس نظام میں لانے اور معیشت میں شفافیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔


