کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائیکورٹ نے رابری کیس میں ملزم محمد علی حاجانو کی درخواستِ ضمانت مسترد کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ایک خاتون کو اسلحے کے زور پر لوٹا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے کار میں بیٹھی خاتون کو پستول دکھا کر ان کا پرس، نقدی، سونے کی چین اور دیگر قیمتی اشیا چھین لیں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق واردات کے بعد ملزم موٹر سائیکل پر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ خاتون نے اپنی گاڑی موٹر سائیکل سے ٹکرا دی۔ ٹکر کے نتیجے میں ملزم گر گیا، جسے موقع پر موجود شہریوں نے قابو میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم ایک عادی مجرم ہے، اسی بنیاد پر اس کی ضمانت مسترد کی جائے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ بادی النظر میں یہ وہی ملزم معلوم ہوتا ہے جو کراچی کے پوش علاقوں میں ڈکیتی اور خواتین سے جنسی زیادتی کے مقدمات میں سزا یافتہ رہا ہے۔
حکم نامے کے مطابق ملزم کے خلاف ڈکیتی اور خواتین سے زیادتی کے 30 سے زائد مقدمات درج تھے، جن میں وہ مجموعی طور پر 45 برس قید کی سزا پا چکا ہے۔ عدالت کے مطابق رہائی کے فوراً بعد ہی ملزم نے دوبارہ ڈکیتی کی واردات انجام دی۔
پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم وارداتوں کے دوران سفید رنگ کی کرولا گاڑی استعمال کرتا تھا اور بالخصوص ڈیفنس اور کلفٹن جیسے پوش علاقوں کو نشانہ بناتا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق محمد علی حاجانو کو پہلی مرتبہ 2009 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ریکارڈ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم کے والد گل محمد حاجانو ریٹائرڈ ضلعی ایجوکیشن آفیسر تھے اور انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں صدارتی انتخاب بھی لڑا تھا۔
ملزم کے وکیل کا اس وقت مؤقف تھا کہ ان کے مؤکل کو والد کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے باعث انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعتوں میں ملزم کا مکمل سابقہ ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔


