اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)71 سال پرانے وراثتی تنازع میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے والدہ اور بہنوں کو جائیداد میں ان کا قانونی حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ اسلامی اور آئینی اصولوں کے مطابق خواتین کو وراثت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، چاہے تنازع کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو۔
فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ وراثتی حقوق میں تاخیر ناانصافی کے مترادف ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بروقت انصاف فراہم کریں۔ عدالت نے نچلی عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کی۔
تاہم اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مفت پیٹرول اور دیگر مراعات بروقت لینے والے انصاف 71 سال بعد فراہم کرتے ہیں، جو نظامِ انصاف کی سست روی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔


