17

گل پلازہ آتشزدگی کیس، پولیس نے چالان پراسیکیوشن کو جمع کرا دیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) گل پلازہ آتشزدگی کے مقدمے میں پولیس نے تفتیش مکمل کرتے ہوئے چالان پراسیکیوشن کو جمع کرا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو چالان کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو حادثاتی قرار دے دیا گیا ہے، جس کی تصدیق فرانزک رپورٹ سے بھی ہو گئی ہے۔ پولیس نے دکاندار نعمت اللہ کو مرکزی ملزم نامزد کیا ہے جبکہ مقدمے میں اس کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین اور جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے تمام ملزمان کو مفرور قرار دے دیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی کے نتیجے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ چار لاشوں کے باقیات تاحال کسی نے وصول نہیں کیے۔ دورانِ تفتیش چار عینی شاہدین کے بیانات دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے۔

لاہور سے آنے والی کرائم سین یونٹ کی ٹیم نے شواہد اکٹھے کر کے پنجاب فارنزک لیب بھجوائے، جہاں رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد استعمال نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق آگ کی شروعات دکان نمبر 193 سے ہوئی۔ بتایا گیا کہ دکاندار نعمت اللہ اکثر دکان اپنے کمسن بیٹے کے سپرد کر کے چلا جاتا تھا، جہاں حذیفہ کی جانب سے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکنے سے مصنوعی پھولوں میں آگ لگ گئی۔ نعمت اللہ اور حذیفہ دونوں کو غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کم عمر بچے کو دکان پر کام سے نہ روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت ہے۔ آتشزدگی کے بعد مارکیٹ یونین کی جانب سے نہ بروقت ایمرجنسی اطلاع دی گئی اور نہ ہی مدد طلب کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ کے تمام گیٹ بند تھے اور یونین نے بروقت گیٹ نہیں کھلوائے، جس کے باعث لوگوں کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق گیٹ بند ہونا انتظامیہ کی سنگین غفلت ہے۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ یونین صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو فون کر کے بجلی بند کروائی، جس کے باعث اندھیرا چھا گیا اور متعدد افراد مارکیٹ کے اندر پھنس گئے۔

پولیس کے مطابق کیس میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں