6

لطیف آباد نمبر 7 اور قاسم آباد میں غیرقانونی وین اسٹاپ دوبارہ فعال

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد میں غیرقانونی وین سروس کے خلاف ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں غیرقانونی وین اسٹاپ دوبارہ فعال ہو گئے ہیں، جس پر آر ٹی اے کی کارکردگی ایک بار پھر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لطیف آباد نمبر 7 کے اطراف قائم غیرقانونی وین اسٹاپ، جنہیں چند روز قبل آر ٹی اے حکام نے کارروائی کر کے ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، دوبارہ پوری آب و تاب کے ساتھ چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان اڈوں سے روزانہ سینکڑوں مسافر گاڑیاں روانہ ہو رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض بااثر ٹرانسپورٹرز مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے نہ صرف غیرقانونی اڈے دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو بھی غیر مؤثر بنا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی کے چند ہی روز بعد غیرقانونی اڈے دوبارہ آباد ہو جائیں تو ایسی مہمات محض نمائشی اقدامات تصور کی جاتی ہیں۔

ادھر قاسم آباد کے مختلف علاقوں میں بھی متعدد غیرقانونی وین اسٹاپ بدستور فعال ہیں، جہاں ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں اور شاہراہوں پر مسافر سوار کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق ان غیرقانونی اڈوں کے باعث ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، ایمبولینسوں اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے جبکہ حادثات کے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سماجی اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آر ٹی اے حیدرآباد کے سیکریٹری حسنین رضا میمن کی سربراہی میں غیرقانونی ٹرانسپورٹ کے خلاف متعدد کارروائیوں کا اعلان تو کیا گیا، تاہم ان کے دیرپا اور مؤثر نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ وقتی آپریشنز کے بجائے مستقل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ ایک بار ختم کیے گئے غیرقانونی اڈے دوبارہ قائم نہ ہو سکیں۔

شہریوں نے کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں غیرقانونی وین اسٹاپس کے خلاف مشترکہ، بلاامتیاز اور مستقل آپریشن کیا جائے، مبینہ سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام کو محفوظ، منظم اور قانونی ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں