کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو)کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شہر کے معروف ریسٹورنٹ کابل جان کے مالک محمد ہاشم نورزئی کو قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ ہفتہ کی علی الصبح کوئٹہ میں تھانہ ایئرپورٹ کی حدود، کچلاک بائی پاس عثمانیہ ہوٹل کے قریب پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہاشم نورزئی وزیر آباد کچلاک کے رہائشی تھے اور وہ اکیلے اپنی ذاتی ویگو گاڑی میں گھر سے شہر کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی ویگو گاڑی پر متعدد گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کم از کم ایک گھنٹے کی تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی، اس وقت تک محمد ہاشم نورزئی دم توڑ چکے تھے، جبکہ ان کی لاش ایک دوست نے سول ہسپتال منتقل کی۔
سول ہسپتال میں لاش کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق محمد ہاشم نورزئی کو تین گولیاں لگی تھیں، جن میں ایک سر پر جبکہ دو بازوؤں پر لگیں۔ ڈاکٹر کے مطابق سر پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی اور موت موقع پر ہی واقع ہو گئی۔
ابتدائی طور پر واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ ورثاء نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
محمد ہاشم نورزئی کوئٹہ کے معروف تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایئرپورٹ روڈ پر ’’کابل جان‘‘ ریسٹورنٹ قائم کیا تھا، جو مختصر عرصے میں شہر کے نمایاں اور معروف ریسٹورنٹس میں شامل ہو گیا تھا۔


