پشاور(ایچ آراین ڈبلیو) ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک فرانسیسی خاتون کو اس کے ہی شوہر نے محبت کے نام پر پاکستان لا کر 12 برس تک قید اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں متاثرہ خاتون کو بچوں سمیت بازیاب کرا لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلوی یاسمینہ نے اپنے پاکستانی شوہر پر اعتماد کرتے ہوئے 2014ء میں بچوں سمیت فرانس سے پاکستان ہجرت کی۔ کبھی فرانس میں شوہر کے لیے مضبوط سہارا بننے والی یہ خاتون، پیرس میں ایفل ٹاور کے سائے تلے ایک خوشحال زندگی گزار رہی تھیں، مگر پاکستان آتے ہی ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔
سلوی یاسمینہ کو ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ایک کچے اور خستہ حال مکان میں قید رکھا گیا، جہاں انہیں نہ گھر سے نکلنے کی اجازت تھی، نہ کسی سے بات چیت اور نہ ہی فون استعمال کرنے کی آزادی۔ خاتون کے مطابق ان پر اور ان کے بچوں، خصوصاً بیٹی پر مسلسل جسمانی و ذہنی تشدد کیا جاتا رہا۔
کئی برسوں تک خاموش اذیت برداشت کرنے کے بعد بالآخر ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور گھر سے فرار ہو کر پولیس کو ماں کی قید اور مظالم سے آگاہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی اداروں نے کارروائی کی۔
اس حوالے سے میاں سعید نے بتایا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پر خیبر پولیس نے باڑہ میں چھاپہ مارا اور غیر ملکی خاتون کو ان کے چاروں بچوں سمیت بحفاظت بازیاب کرا لیا، جبکہ ملزم شوہر کو موقع پر گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بعد ازاں متاثرہ خاندان کو ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا۔
بازیابی کے بعد سلوی یاسمینہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اب اپنے بچوں کے ساتھ واپس فرانس جانا چاہتی ہیں تاکہ نئی اور پُرامن زندگی کا آغاز کر سکیں۔ پولیس کے مطابق اس مقصد کے لیے وزارتِ خارجہ پاکستان کے ذریعے فرانسیسی سفارتخانے کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ خاتون اور بچوں کی باعزت وطن واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
یہ واقعہ نہ صرف گھریلو تشدد کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ اعتماد اور محبت کے نام پر ہونے والے فیصلے کس طرح ایک پوری زندگی کو قید میں بدل سکتے ہیں۔


