ڈیرہ اسماعیل خان(ایچ آراین ڈبلیو)گومل یونیورسٹی کے چانسلر کی ہدایت پر جعلی ڈگریوں کے معاملے کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کرائی گئی اندرونی آڈٹ اور انکوائری رپورٹ میں سال 2019ء سے 2023ء کے دوران جاری کی گئی 514 ڈگریوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جعلی ڈگریوں کی فراہمی ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی تھی، جو مبینہ طور پر بااثر شخصیات کو جعلی اسناد مہیا کرتا رہا۔ اسی نیٹ ورک کے ذریعے سہیل آفریدی کے ذاتی محافظ عارف خٹک کی ڈگری بھی جعلی ثابت ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عارف خٹک نے رجسٹریشن نمبر 287-NIEMS-19 کے تحت سال 2023-24 میں یہ مبینہ جعلی ڈگری حاصل کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے اس نیٹ ورک کا سراغ ملنے پر مشکوک ڈگریوں کے خلاف خود کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم، تحقیقات کرنے کے اسی عمل کے دوران انہیں 90 روز کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ وائس چانسلر کو رخصت پر بھیجنے کے بعد تحقیقات کے نام پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس پر یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ کمیٹی میں مبینہ طور پر من پسند افراد شامل کیے گئے ہیں تاکہ نیٹ ورک اور جعلی ڈگریوں سے فائدہ اٹھانے والے بااثر افراد کو بچایا جا سکے۔
معاملے نے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گومل یونیورسٹی میں جاری جعلی ڈگریوں کے اسکینڈل کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو۔


