18

موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج، ماحولیاتی تحفظ کے لیے اجتماعی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں، مقررین

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کےوائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات محض ماہرینِ ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ہر فرد، چاہے وہ استاد ہو، طالب علم، پالیسی ساز یا عام شہری، اس حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک یکساں طور پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں، اس لیے اس عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی شعور، ذمہ دارانہ رویّوں اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم میں عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے منعقدہ ’’کلائمٹ مِٹرز کانفرنس‘‘( Climate Matters Conference ) سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں ماہرینِ ماحولیات، سائنس دانوں، مختلف جامعات کے اساتذہ، غیر سرکاری تنظیموں، نجی شعبے کے نمائندوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وائس چانسلر جامعہ کراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس مطلوبہ علم، مہارت اور تحقیقی معلومات موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ ان اصولوں اور قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی اور ماحولیاتی آگاہی کے لیے مختلف مہمات شروع کی گئیں، مگر ان اقدامات کے نتائج اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوسکتے جب تک عوام اور ادارے ان پر مکمل عمل نہ کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان مستقبل قریب میں پانی کی شدید قلت جیسے سنگین بحران کا سامنا کرسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود معاشرے میں پانی کے ضیاع اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سنجیدگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کراچی کو تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کیا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، گرمی کی شدت اور دیگر ماحولیاتی مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک طرف ہم موسمیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں جو ماحول کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کے مضر اثرات سے ہر شخص واقف ہے، لیکن اس کے باوجود شہر کے بیشتر علاقوں میں ان کا استعمال معمول کے مطابق جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ سخت نگرانی، مؤثر عمل درآمد اور عوامی شعور کی بیداری بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعات تحقیق، آگاہی اور ماحول دوست طرزِ عمل کے فروغ کے ذریعے قومی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جاری کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہرِ ماحولیات وانسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر عالمگیر نے کہا کہ متعدد سائنسی تحقیقات یہ ثابت کرچکی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دنیا بھر میں واضح طور پر محسوس کیے جارہے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے آگاہی، تحقیق اور معلومات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم عملی اقدامات کی رفتار اب بھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پلاسٹک کے استعمال کے خاتمے اور ماحولیاتی تحفظ کی بات تو کرتے ہیں لیکن اپنے روزمرہ رویّوں میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جو ایک بڑا تضاد ہے۔

ڈاکٹر عامر عالمگیر نے کہا کہ شجرکاری مہمات کے ذریعے لاکھوں درخت لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن دوسری جانب ترقیاتی منصوبوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کی تکمیل کے لیے بڑی تعداد میں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں درختوں کے حوالے سے کی گئی ایک تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں سب سے زیادہ درخت قبرستانوں میں پائے جاتے ہیں کیونکہ وہاں انسانی مداخلت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر رویّوں میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ نواز نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، ل…

اپنا تبصرہ بھیجیں