حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے شہر میں ایل پی جی کی شدید قلت، بلیک مارکیٹنگ اور بے قابو قیمتوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ تقریباً 309 روپے فی کلو سرکاری نرخ کے باوجود حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جو صارفین کے ساتھ کھلا استحصال ہے۔
پرائس کنٹرول نظام ناکام قرار
سلیم میمن کا کہنا تھا کہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت میں تقریباً 190 روپے فی کلو تک کا فرق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پرائس کنٹرول کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور متعلقہ ادارے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔
گیس قلت نے مشکلات بڑھا دیں
انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام پہلے ہی قدرتی گیس کی قلت، کم پریشر اور سخت گیس شیڈول کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث ہزاروں گھریلو صارفین، تندور، چائے خانے، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور چھوٹے کاروبار ایل پی جی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری نے عوام اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات
صدر چیمبر نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری نرخ موجود ہیں تو ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور متعلقہ ادارے ان پر عملدرآمد کرانے میں کیوں ناکام ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ متعدد شکایات کے باوجود بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی، جس سے مافیا کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔
فوری اقدامات کا مطالبہ
سلیم میمن نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی سپلائی، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کی فوری تحقیقات کی جائیں، ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور شہریوں کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ایل پی جی اور گھریلو و کمرشل گیس کے شعبے میں مزید لائسنس یافتہ کمپنیوں اور سروس فراہم کنندگان کو کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ مسابقتی ماحول فروغ پائے، سپلائی بہتر ہو اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی حوصلہ شکنی ہو۔ ساتھ ہی غیر قانونی ری فلنگ اور غیر محفوظ فروخت کے مراکز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اعلیٰ حکام سے نوٹس کی اپیل
صدر چیمبر نے سید مراد علی شاہ، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور اوگرا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس سنگین صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کا براہ راست بوجھ عام شہریوں اور چھوٹے کاروباروں پر پڑے گا، جو پہلے ہی مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔


