کروڑ لعل عیسن(ایچ آراین ڈبلیو)ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ چند روز قبل قتل ہونے والے ایڈیشنل سول جج رانا مختیار عرف نوشی کے قتل کیس میں ان کا اپنا بیٹا مبینہ طور پر ملوث نکلا ہے۔
اطلاعات کے مطابق معمولی تلخ کلامی کے بعد بیٹے نے اپنے والد کو گولیاں مار کر قتل کیا، لاش نہر میں پھینک دی اور بعد ازاں نمازِ جنازہ بھی خود ہی پڑھائی، جس نے واقعے کو مزید لرزا دینے والا بنا دیا۔
یہ سانحہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت، والدین کے احترام میں کمی اور اخلاقی اقدار کے زوال کی دردناک عکاسی کرتا ہے۔ اہلِ فکر کا کہنا ہے کہ والدین، اساتذہ اور علما کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نئی نسل کو صبر، رحم، برداشت اور انسانیت کا عملی درس دیں تاکہ مستقبل میں ایسے دل خراش واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔


