**سری نگر (ایچ آر این ڈبلیو):** جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور بزرگ سیاست دان فاروق عبداللہ نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جماعت مقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت اور عوام سے چھینے گئے آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے اپنی سیاسی، قانونی اور آئینی جدوجہد بلا تعطل جاری رکھے گی۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار سیاسی استحکام اور پُر امن ماحول اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک یہاں کے عوام سے کیے گئے تاریخی وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے نئی دہلی انتظامیہ پر زور دیا کہ عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ماضی میں (خصوصاً دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد) کیے گئے یکطرفہ فیصلوں پر نظرثانی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے غیور عوام اپنی تاریخی شناخت، بنیادی حقوق اور صوبائی اختیارات کی فوری بحالی کے خواہاں ہیں اور ان جائز مطالبات کو مسلسل نظرانداز کرنے سے وادی میں سیاسی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ فاروق عبداللہ کے مطابق خطے میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا اور حقیقی عوامی نمائندگی کو مؤثر بنانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس مکمل طور پر آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات کے لیے مسلسل آواز بلند کرتی رہے گی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ملکی و بین الاقوامی جمہوری فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ خطے کی سیاست میں بدستور سب سے بڑا اور حساس موضوع بنا ہوا ہے جس پر تمام مقامی سیاسی جماعتیں متحد نظر آتی ہیں۔
—
> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> انسانی حقوق اور عوامی مسائل کے لیے بروقت آواز اٹھانے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو فروغ دینے اور مظلوموں کی آواز بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


