**واشنگٹن/ٹمپا (ایچ آر این ڈبلیو):** امریکی وزیرِ دفاع (سیکریٹری آف ڈیفنس) پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف جاری حالیہ فوجی تصادم کے حوالے سے ایک انتہائی جارحانہ اور سخت ترین بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آج رات ایران پر کیے جانے والے امریکی حملے غیر معمولی طور پر سخت، فیصلہ کن اور واضح ہوں گے۔
فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ہیڈکوارٹر کے باہر بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج نے گزشتہ دنوں مروجہ جنگ بندی کے وقفے کو انتہائی مؤثر اور سائنسی انداز میں استعمال کیا ہے، جس کے دوران ایران سے متعلق انٹیلیجنس، جاسوسی اور اہداف کو نشانہ بنانے (ٹارگٹنگ) کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اور غیر معمولی بہتری حاصل کی گئی ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق، سینٹکام نے اس عبوری عرصے کے دوران زمینی معلومات کے حصول، حساس ایرانی فوجی اہداف کی عین نشاندہی اور تہران کے اسٹریٹجک نیٹ ورکس تک رسائی کے سراغ رساں نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور فول پروف بنا دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند سیکنڈز کے اندر فوری اور تباہ کن کارروائی کو ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی مسلح افواج کی موجودہ جنگی و تکنیکی صلاحیتیں ‘آپریشن ایپک فیوری’ (Operation Epic Fury) کے ابتدائی دور کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ مضبوط، ہائی ٹیک اور جدید تر ہو چکی ہیں، جس کی بدولت ایرانی اہداف کی سو فیصد درست شناخت اور ان تک پہنچنے کی امریکی صلاحیت میں واضح اور حتمی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع کے اس بیان کے بعد خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
—
> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> انسانی حقوق اور عوامی مسائل کے لیے بروقت آواز اٹھانے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو فروغ دینے اور مظلوموں کی آواز بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


