8

ڈیرہ غازی خان میں 13 کروڑ روپے سے تعمیر ہونے والا بارا برج چند ماہ بعد ہی منہدم،

ڈیرہ غازی خان(ایچ آراین ڈبلیو)ڈیرہ غازی خان میں 13 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا نیا بارا برج اور وڈور روڈ منصوبہ تکمیل کے چند ماہ بعد ہی منہدم ہو گیا، جس نے ترقیاتی منصوبوں کے معیار، منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ افسوسناک واقعہ 4 جون 2026 کو پیش آیا، جبکہ حیران کن طور پر پل کسی بڑے سیلاب یا غیر معمولی قدرتی آفت کا شکار نہیں ہوا۔ 3 جون کو ہونے والی معمولی بارش کے بعد وڈور ہل ٹورنٹ (روڈھ کوہی) میں آنے والا نسبتاً ہلکا پانی کا بہاؤ بھی اس نئے تعمیر شدہ پل کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں پل اور اس سے منسلک سڑک کا بڑا حصہ بہہ گیا۔

عام حالات میں یہ علاقہ زیادہ تر خشک رہتا ہے اور روڈھ کوہی میں پانی کا بہاؤ موسمی اور محدود نوعیت کا ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک نئے تعمیر شدہ منصوبے کا معمولی بارش کے بعد ہی زمین بوس ہو جانا مقامی آبادی کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

پل کے منہدم ہونے سے بیلا، وڈور زئی، دلانہ، راخ بیلا، واہی کنگراڑی اور کوچہ وڈانی سمیت متعدد علاقوں کا ڈیرہ غازی خان شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کے باعث روزمرہ آمد و رفت، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی امور اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیر کے دوران ہی ناقص میٹریل اور غیر معیاری کام کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم متعلقہ حکام نے ان خدشات کو نظر انداز کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک کروڑوں روپے کا منصوبہ اپنی متوقع عمر کے ابتدائی مہینے بھی پورے نہ کر سکے تو یہ تعمیراتی معیار، تکنیکی نگرانی اور عوامی وسائل کے درست استعمال پر سوالیہ نشان ہے۔

ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے واقعے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں، تاہم تاحال کوئی تفصیلی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آ سکی۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھیکیداروں، متعلقہ افسران اور ذمہ دار اداروں کے کردار کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ناقص تعمیرات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک پل کے گرنے کا نہیں بلکہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار، نگرانی اور احتساب کے پورے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی خزانے سے بننے والے منصوبے اسی طرح ملبے کا ڈھیر بنتے رہیں گے اور اس کا خمیازہ ہمیشہ عام شہریوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں