7

ٹیکس نیٹ میں توسیع خوش آئند، مگر چھوٹے تاجروں پر بوجھ نہ ڈالا جائے، محمد سلیم میمن

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد میں حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں زیر غور فکسڈ ٹیکس اور ٹرن اوور ٹیکس تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور معیشت کی دستاویز بندی خوش آئند ہے، تاہم چھوٹے تاجروں کے زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے چھوٹے تاجر پہلے ہی مہنگائی، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے نرخ، کرایوں، بینک مارک اپ اور کمزور قوتِ خرید جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں اضافی مالی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔

محمد سلیم میمن نے مؤقف اختیار کیا کہ چھوٹے کاروباروں کی نوعیت بڑی ریٹیل چینز اور کارپوریٹ اداروں سے مختلف ہے، اس لیے یکساں فکسڈ ٹیکس یا ٹرن اوور ٹیکس انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرن اوور کو منافع کے برابر تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کئی کاروبار ایسے ہیں جن کا کاروباری حجم زیادہ لیکن منافع نہایت محدود ہوتا ہے، اس لیے یکساں شرح سے ٹیکس کا نفاذ مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

صدر چیمبر نے مطالبہ کیا کہ حکومت چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروباروں کی واضح درجہ بندی کرے اور ہر شعبے کے مطابق الگ ٹیکس پالیسی مرتب کرے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور معیشت کی دستاویز بندی کی حمایت کی جاتی ہے، تاہم ایسا کوئی اقدام قبول نہیں کیا جا سکتا جو پہلے سے مشکلات کا شکار چھوٹے تاجروں پر مزید دباؤ ڈالے۔

محمد سلیم میمن نے حکومت، وزارتِ خزانہ اور Federal Board of Revenue (ایف بی آر) پر زور دیا کہ مجوزہ ٹیکس پالیسی پر عمل درآمد سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کاروبار بڑھے گا تو ٹیکس بھی بڑھے گا، لیکن اگر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں تو معیشت، روزگار اور حکومتی آمدن سب متاثر ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں