خیبر پختونخوا(ایچ آراین ڈبلیو)پہاڑوں، وادیوں اور جنگلات میں قدرت نے بے شمار قدرتی نعمتیں چھپا رکھی ہیں، جن میں ایک منفرد اور نایاب جنگلی پھل “گورگورے” (Monotheca buxifolia) بھی شامل ہے، جو مقامی آبادی میں خاصی مقبولیت رکھتا ہے۔
یہ جنگلی پھل زیادہ تر خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی طور پر اگتا ہے۔ اس کا درخت عموماً 7 سے 15 میٹر تک بلند ہوتا ہے اور سخت موسمی حالات میں بھی اپنی مضبوطی اور بقا کی صلاحیت کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ یہ درخت خصوصی دیکھ بھال یا آبپاشی کے بغیر قدرتی ماحول میں نشوونما پاتا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق گورگورے کے درخت پر موجود کانٹے اس کے پھل کو توڑنے کے عمل کو مشکل بنا دیتے ہیں، تاہم علاقے کے لوگ روایتی طریقوں سے اسے بڑی مہارت سے حاصل کرتے ہیں۔ جون اور جولائی کے مہینوں میں جب یہ درخت پھل سے لد جاتے ہیں تو پہاڑی علاقوں کا منظر انتہائی دلکش ہو جاتا ہے۔
گورگورے کو تازہ حالت میں کھایا جاتا ہے جبکہ اسے خشک کرکے بھی محفوظ کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے مزری سے بنی ہوئی روایتی ٹوکریوں میں جمع کرتے ہیں، جو ان کی ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
غذائی اعتبار سے بھی اسے اہم سمجھا جاتا ہے اور مقامی روایات کے مطابق یہ نظامِ ہاضمہ، معدے کے مسائل اور پیشاب کی نالی کے امراض میں مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع جیسے کوہاٹ، کرک، ہنگو، خیبر، مہمند اور دیگر پہاڑی علاقوں میں یہ درخت قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف مقامی حیاتیاتی تنوع کا اہم حصہ ہے بلکہ جنگلی حیات کے لیے خوراک اور پناہ کا ذریعہ بھی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی، آبادی میں اضافہ اور بے قابو چرائی کے باعث اس نایاب پھل کے قدرتی ذخائر میں کمی آ رہی ہے، جس سے اس کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں۔
ماہرین ماحولیات اور مقامی حلقوں نے حکومت اور محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ گورگورے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، نئے پودے لگائے جائیں اور قدرتی جنگلات کو محفوظ بنایا جائے تاکہ یہ قیمتی قدرتی ورثہ آئندہ نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔
گورگورے صرف ایک پھل نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی قدرتی خوبصورتی، ثقافت اور ماحولیات کی ایک اہم علامت ہے۔


