18

طلبہ کی عدم دلچسپی، میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی 743 نشستیں خالی رہ گئیں

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان میں طلبہ کی عدم دلچسپی کے باعث تعلیمی سال 2025–26 کے دوران میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی 743 نشستیں خالی رہ گئیں۔ میرٹ میں نرمی اور داخلوں کے لیے 45 روزہ توسیع کے باوجود ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی نشستیں پُر نہ ہو سکیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کے 187 میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں مجموعی طور پر 22 ہزار 300 سے زائد نشستیں موجود ہیں۔ خالی رہ جانے والی 743 نشستوں میں 608 بی ڈی ایس جبکہ 135 ایم بی بی ایس کی نشستیں شامل ہیں۔

صوبہ وار تفصیلات کے مطابق پنجاب میں 381، سندھ میں 295، اسلام آباد میں 50 اور خیبر پختونخوا میں 17 نشستیں خالی رہیں۔ داخلوں کے لیے ایم بی بی ایس کا کم از کم میرٹ 55 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد اور بی ڈی ایس کا 50 فیصد سے 47 فیصد کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے لیے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد طلبہ نے رجسٹریشن کرائی، جن میں سے تقریباً 90 ہزار امیدوار کامیاب قرار پائے، مگر بڑی تعداد میں کامیاب امیدوار ہونے کے باوجود سینکڑوں نشستیں خالی رہ گئیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے نئے میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کے قیام اور نشستوں میں مزید اضافے پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ کونسل کے مطابق ملک میں 3 ہزار 872 میڈیکل اساتذہ کی کمی ہے، جہاں 26 ہزار 18 مطلوبہ اساتذہ کے مقابلے میں صرف 22 ہزار 146 فیکلٹی ارکان دستیاب ہیں۔

ادھر اندازوں کے مطابق 25 سے 30 ہزار پاکستانی طلبہ بیرونِ ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خالی نشستوں کی اہم وجوہات میں بھاری فیسیں، تعلیمی معیار، اور مستقبل میں روزگار کے مواقع سے متعلق خدشات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں