19

ٹاٹ کلچر کا خاتمہ، ہر سرکاری سکول کو ڈیسک فراہم کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے تمام فعال سرکاری سکولوں میں ٹاٹ کلچر کے مکمل خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ہر سکول میں طلبہ کے لیے ڈیسک فراہم کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس ضمن میں سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اہم اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان تینوں شعبوں کی بہتری کے لیے جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں صوبے میں شرحِ خواندگی بڑھانے کے لیے 900 سرکاری سکولوں میں ڈبل شفٹ تدریسی نظام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی کئی سالوں سے فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر بھی اتفاق ہوا۔

فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کے سرکاری سکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرایا جائے گا، جبکہ آئندہ سال تک صوبے کے 3 ہزار سنگل روم سکولوں میں اضافی کمرے تعمیر کیے جائیں گے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے اجلاس کو ان اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ترقی کر چکی ہے مگر افسوس کہ بلوچستان میں اب بھی بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب کوئی بچہ ٹاٹ پر نہیں بیٹھے گا اور ہر سکول میں ہر طالبعلم کو ڈیسک فراہم کیا جائے گا۔

میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ وہ خود دور دراز علاقوں کے سکولوں کا جائزہ لیں گے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں اچانک معائنہ بھی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقررہ مدت کے بعد اگر کوئی بچہ ٹاٹ پر بیٹھا پایا گیا تو متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں میں خود اعتمادی اور عزتِ نفس کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے عملی اور پائیدار اقدامات کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں