23

بورے والا میں 6 سال بعد اغوا و قتل کا ہولناک راز فاش، ریت کے ٹیلے سے عظمیٰ کی لاش برآمد

بورے والا(ایچ آراین ڈبلیو)چھ سال تک ریت کے ٹیلے میں دفن ایک اندوہناک قتل بالآخر منظرِ عام پر آ گیا۔ بورے والا کے نواحی علاقے میں ریت کی کھدائی کے دوران ایک خاتون کا انسانی ڈھانچہ برآمد ہوا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے چند چوڑیاں اور گلے سڑے کپڑے بھی ملے، جن سے اندازہ ہوا کہ ڈھانچہ کسی خاتون کا ہے۔ دورانِ تفتیش مقتولہ کی بوڑھی والدہ موقع پر پہنچیں، جنہوں نے کپڑوں اور چوڑیوں کی مدد سے اپنی بیٹی کی شناخت کر لی۔ والدہ کے مطابق یہ ڈھانچہ ان کی 20 سالہ بیٹی عظمیٰ کا تھا، جسے آج سے چھ سال قبل اغوا کیا گیا تھا۔

متاثرہ والدہ نے بتایا کہ ملزمان نے اغوا کے بعد عظمیٰ کو بے دردی سے قتل کر کے ثبوت مٹانے کے لیے اس کی لاش ریت کے ویران ٹیلے میں دفن کر دی تھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اغوا کے وقت نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوا، تاہم چھ برس گزرنے کے باوجود نہ عظمیٰ کا کوئی سراغ مل سکا اور نہ ہی ملزمان گرفتار ہو سکے۔

پولیس نے انسانی ڈھانچہ تحویل میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے تاکہ شناخت کی حتمی تصدیق کی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جرم خواہ کتنا ہی چھپایا جائے، آخرکار سچ سامنے آ ہی جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں