حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)ایس ایس پی حیدرآباد کے دفتر کی حدود میں خواجہ سراؤں کے ایک مخصوص مشتعل گروہ کی جانب سے دھاوا بولنے، پرتشدد احتجاج، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور سرکاری عملے کو ہراساں کرنے کا سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔
ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سرکاری دفتر کی حدود میں ہنگامہ آرائی، تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور بالخصوص خواتین ملازمین کو ہراساں کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔
تفصیلات کے مطابق خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے پولیس کی خاتون جونیئر کلرک ماریہ ساریو کی تعیناتی سے متعلق مطالبات کے حق میں ایس ایس پی آفس کا گھیراؤ کیا اور احتجاج کے دوران دفاتر میں گھس کر شدید ہنگامہ آرائی کی۔ احتجاج کے دوران دفتری عملے، خصوصاً خواتین عملے کو ہراساں کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ایس ایس پی حیدرآباد کی جانب سے مظاہرین کو بارہا مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی پیشکش کی گئی اور غیر جانبدار کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی گئی، تاہم مشتعل گروہ نے ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے سرکاری افسران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش جاری رکھی۔
ایس ایس پی حیدرآباد نے واضح کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے، سرکاری امور میں مداخلت، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سرکاری ملازمین کو ہراساں کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی فرد یا گروہ کو دباؤ یا دھمکی کے ذریعے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون کی بالادستی اور اداروں کے تقدس کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
ایس ایس پی حیدرآباد کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس خواجہ سرا برادری سمیت معاشرے کے تمام طبقات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے اور جائز مسائل کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے گی، تاہم قانون شکنی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
بعد ازاں ایس ایس پی حیدرآباد کے احکامات پر کینٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ کرائم نمبر 100/2026 زیر دفعات 114، 353، 147، 149، 120-B، 427 اور 504 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کر لیا۔ پولیس نے جونیئر کلرک ماریہ ساریو سمیت 15 نامزد افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔


