**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کو باقاعدہ یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ مستقبل میں کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ وہ دنیا میں کہیں سے بھی ایٹم بم نہیں خریدے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اور ایران ایک نئے تاریخی معاہدے (ڈیل) کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، انہوں نے تہران کو سخت لہجے میں خبردار بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور اچھی ڈیل طے نہ پا سکی، تو امریکا کے پاس دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم ایران سے وہی سب کچھ حاصل کر رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس معاہدے کو انجام تک پہنچانے کے لیے کسی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کر رہے، کیونکہ جلد بازی کی صورت میں ایک اچھی اور پائیدار ڈیل کا ہونا ممکن نہیں رہے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کے تمام پتے اور سفارتی برتری صرف اور صرف امریکا ہی کے پاس ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے سابقہ مؤقف میں تبدیلی کا اشارہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہوں نے جمعے کے روز آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب حکمتِ عملی کے تحت یہ طے پایا ہے کہ جیسے ہی دونوں ممالک کے درمیان حتمی ڈیل پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا جائے گا۔
ایرانی دفاعی صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت معاشی اور عسکری طور پر انتہائی کمزور اور بری پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازعات کے نتیجے میں ایران کی فوج، بحریہ (نیوی) اور فضائیہ (ایئر فورس) کا مکمل طور پر صفایا کیا جا چکا ہے اور وہ اب مزاحمت کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


