20

جہلم: پٹرول پمپ پر ہاتھ دھونے پر معصوم بچیوں اور باپ پر بااثر افراد کا وحشیانہ تشدد، پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری

جہلم (ایچ آراین ڈبلیو) – پنجاب کے ضلع جہلم میں پٹرول پمپ پر صرف ہاتھ دھونے کے معمولی معاملے پر بااثر ملزم غلام رسول رند نے اپنے بیٹوں اور پمپ عملے کے ساتھ مل کر تین کم سن معصوم بہنوں اور ان کے لاچار باپ کو سرعام وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے باوجود مقامی پولیس بااثر خاندان کے دباؤ کے باعث قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کرنے سے صاف انکاری ہے۔

واقعے کی دلسوز تفصیلات درج ذیل ہیں:

معصوم بچیوں اور بے بس باپ پر وحشیانہ تشدد
تشدد کا افسوسناک سبب: ایک غریب شہری اپنی تین کم سن بیٹیوں کے ہمراہ پٹرول پمپ پر موجود تھا، جہاں بچیوں نے پمپ کے واش بیسن پر ہاتھ دھوئے۔ اس معمولی بات پر سردار زادے غلام رسول رند نے طیش میں آ کر معصوم بچیوں پر سرعام تھپڑوں اور گھونسوں کی برسات کر دی۔

بچیوں کی عمریں: جن بچیوں کو بے دردی سے مارا گیا ان میں سے ایک کی عمر محض 7 سال، دوسری کی 5 سال اور سب سے چھوٹی بچی کی عمر صرف 3 سال ہے۔

باپ کی درگت: اپنی ننھی بچیوں کو سرعام مار کھاتا دیکھ کر جب لاچار اور بے بس باپ انہیں بچانے کے لیے آگے بڑھا، تو پٹرول پمپ کے عملے اور وڈیرے کے کارندوں نے اس غریب شہری پر دھاوا بول دیا اور اسے مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔

پولیس پر اثر و رسوخ اور کارروائی سے انکار
پولیس کو دھمکیاں: واقعے کی اطلاع ملنے پر جب پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج دیکھنا چاہی، تو غلام رسول رند کے بیٹے نے قانون کو پیروں تلے روندتے ہوئے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

“اوپر” سے فون اور پولیس کی واپسی: پولیس ابھی کارروائی کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ بااثر ملزمان کے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث پولیس افسران کو “اوپر” سے ایک فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس پمپ سے خاموشی سے واپس لوٹ گئی۔

مقدمہ درج کرنے سے انکار: سفاکیت کا نشانہ بننے والا غریب خاندان انصاف کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے، تاہم مقامی پولیس بااثر ملزمان کے دباؤ کے باعث واقعے کا مقدمہ (FIR) درج کرنے سے گریز کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی “ریڈ لائن” پر سوالیہ نشان
اس افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا یہ معصوم بچیاں ان کی حکومت کی “ریڈ لائن” میں نہیں آتیں؟

انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں نے آئی جی پنجاب اور ڈی پی او جہلم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وڈیرہ شاہی اور بااثر طبقے کے اس ظلم کا فوری نوٹس لیا جائے، پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج تحویل میں لے کر غلام رسول رند اور اس کے بیٹوں کو گرفتار کیا جائے اور مظلوم خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں