23

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلم تہواروں پر پابندیاں اور امتیازی سلوک، کشمیریوں کے معاشی و سماجی استحصال کی سخت مذمت

**سرینگر (HRNW)** غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی کے نام پر نافذ کیے جانے والے سخت ترین اقدامات دراصل کشمیری عوام کا ایک سوچا سمجھا معاشی اور سماجی استحصال بن چکے ہیں۔ وادی میں مقامی مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کو مسلسل سخت ترین پابندیوں، ناکہ بندیوں اور کڑی نگرانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت مذمت کی ہے۔

کشمیر میڈیا اور انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق، بھارت کا غاصبانہ قبضہ صرف روایتی عسکری طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی میں اجازت ناموں کی شرط، بلاجواز پابندیوں، چھاپوں اور چیدہ چیدہ امتیازی قوانین کے نفاذ کے ذریعے مقامی آبادی کے حوصلے پست کرنے کی منظم حکمتِ عملی پر انحصار کرتا ہے۔

مقبوضہ وادی میں جاری امتیازی سلوک کی چیدہ چیدہ تفصیلات درج ذیل ہیں:

### مسلم اداروں پر پابندیاں اور مساجد کی پروفائلنگ

* **تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا:** اس نئی جابرانہ پالیسی کے تحت مسلم تنظیموں اور اوقاف کے زیرِ انتظام چلنے والے متعدد تعلیمی اداروں پر بلاجواز پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ مقامی نسل کو ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت سے دور کیا جا سکے۔
* **آئمہ کرام کی پروفائلنگ:** انتظامیہ نے مساجد، خانقاہوں اور ان سے وابستہ آئمہ کرام و خطبا کی مکمل بائیو ڈیٹا پروفائلنگ کا ایک متنازع سلسلہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد مذہبی آزادیوں پر کڑی نظر رکھنا اور خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

### دوہرا معیار اور مقامی آبادی کو دیوار سے لگانا

* **مسلم شناخت کو جرم بنانا:** ایک طرف جہاں مقامی کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، ان کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے اور ان کی بنیادی شناخت کو ایک جرم کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
* **سرکاری سطح پر دوہرا معیار:** دوسری طرف، مقامی مسلم آبادی کو پابندیوں میں جکڑنے کے برعکس، کسی بھی ہندو مذہبی تہوار یا یاترا کو سرکاری سطح پر نہ صرف مکمل سرپرستی، فنڈز اور پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں غیر معمولی تحفظ بھی دیا جاتا ہے۔

انتظامیہ اور قابض فورسز کا یہ متعصبانہ رویہ واضح طور پر اس بات کا عکاس ہے کہ مقبوضہ علاقے میں مسلم اکثریت کے مذہبی، سماجی اور ثقافتی حقوق کو دبانے کے لیے ایک منظم اور ریاستی سطح کی مہم چلائی جا رہی ہے، جو عالمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں