تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے ساتھ جاری تعطل توڑنے کے لیے جو فوجی آپشنز موجود ہیں وہ نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ محدود بھی ہیں، اور بالآخر ان سے تہران کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے بغیر کسی پسپائی کے چالیس دن تک بمباری برداشت کی، جس کے بعد اس نے اپنے موقف میں نرمی لانے کے بجائے مزید سختی اختیار کر لی ہے۔ ان حالات میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے اور غیر متوقع نتائج سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق دباؤ کی پالیسی کے برعکس ایسے اقدامات ایران کو داخلی اور خارجی سطح پر مزید مضبوط کر سکتے ہیں، جس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔


