6

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے باہر سکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ، سیکرٹ سروس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک، سکیورٹی ہائی الرٹ

**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو)** امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک اہم سکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکرٹ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہو گئے۔ یو ایس سیکرٹ سروس کی فوری جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مسلح حملہ آور شدید زخمی ہوا، جو بعد ازاں ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 17تھ اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو کے چوراہے پر پیش آیا۔ ایک 21 سالہ مسلح نوجوان، جس کی شناخت ‘ناصیر بیسٹ’ (Nasire Best) کے نام سے ہوئی ہے، نے اچانک اپنے بیگ سے پستول نکالا اور وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ چیک پوائنٹ پر تعینات یو ایس سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے فوری اور پیشہ ورانہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے ملزم پر گولیاں چلائیں اور اسے موقع پر ہی ڈھیر کر دیا۔

سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپڈیٹس درج ذیل ہیں:

### وائٹ ہاؤس لاک ڈاؤن اور صدر کی سکیورٹی

* **حملہ آور کی ہلاکت:** سکیورٹی حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو شدید زخمی حالت میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزم کا ماضی میں ذہنی امراض کا ریکارڈ رہا ہے اور وہ پہلے بھی وائٹ ہاؤس کی حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار ہو چکا تھا۔
* **راہگیر زخمی:** فائرنگ کے اس تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک عام راہگیر (بائی اسٹینڈر) بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے، جسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
* **عارضی لاک ڈاؤن:** واقعے کے فوری بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا، وہاں موجود صحافیوں کو پریس بریفنگ روم کے اندر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی اور وائٹ ہاؤس کے شمالی لان کو خالی کرا لیا گیا۔ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد لاک ڈاؤن کھول دیا گیا۔
* **صدر محفوظ:** ترجمان سیکرٹ سروس کے مطابق واقعے کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود تھے تاہم وہ اور ان کی سکیورٹی اس واقعے سے بالکل محفوظ رہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سیکرٹ سروس کی فوری اور بہادرانہ کارروائی کو سراہا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اس بات کی تفتیش کر رہی ہیں کہ آیا اس حملے کے پیچھے کوئی گہری سازش تھی یا یہ ملزم کی انفرادی کارروائی تھی۔ امریکی دارالحکومت میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران سکیورٹی خطرات کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں