11

گلوبل فریڈم فلوٹیلا کے ارکان پر بدترین تشدد اور جنسی زیادتی کے انکشافات

استنبول(ایچ آراین ڈبلیو)غزہ جانے والی گلوبل فریڈم فلوٹیلا کے وہ ارکان جو بعد ازاں استنبول پہنچے، ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلوٹیلا کے متعدد کارکن ترکی پہنچنے پر شدید جسمانی تشدد کے آثار کے ساتھ سامنے آئے۔

رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا کے ارکان کو اسرائیل کی تحویل کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کئی افراد کے جسموں پر نیل پڑے ہوئے تھے، بعض چلنے کے قابل نہیں تھے جنہیں وہیل چیئرز پر منتقل کیا گیا، جبکہ متعدد افراد کو علاج کے لیے اسپتال لے جانا پڑا۔

آسٹریلوی فلم ساز اور فلوٹیلا کی کارکن جولیٹ لامونٹ نے بتایا کہ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، خواتین کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات بھی پیش آئے، جبکہ بعض ارکان کو نامعلوم ادویات کے انجکشن لگائے گئے۔

اطالوی صحافی الیساندرو مانتووانی نے اسرائیلی حراستی مرکز کو خوف اور دہشت کی جگہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حراست میں لیتے ہی تشدد کیا گیا اور قیدیوں کو محدود خوراک اور پانی فراہم کیا گیا۔

فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق کم از کم 15 ارکان کے ساتھ جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، متعدد افراد کو ربڑ کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کئی کارکنوں کی ہڈیاں ٹوٹنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے ان الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں